حضرت شاہ حافظ عبدالستار نانکوی بانی جامعہ ستاریہ

Shah Hafiz Abdussattar Nankavi

حضرت شاہ حافظ عبدالستار نانکویؒ:
علم و عرفان کا آفتاب اور جامعہ ستاریہ کے معمارِ اعظم


برِّ صغیر کی علمی و روحانی تاریخ میں ایسی ہستیاں گزر ہیں جن کی زندگیاں اپنے دور میں مشعلِ راہ بنیں اور جن کے فیض سے صدیاں روشن رہیں، انہی عظیم شخصیات میں ایک نام حضرت شاہ حافظ عبدالستار نانکوی رحمۃ اللہ علیہ کا ہے، جو ایک خدا ترس بزرگ، صوفی زاہد، عالم ربانی، قطب وقت اور اپنے عہد کی مسلمہ شخصیت تھے، آپ کا شمار ان برگزیدہ اولیاء اور اکابر علماء میں ہوتا ہے جنہوں نے اپنی زندگی دینِ اسلام کی اشاعت، امت کی اصلاح اور خلقِ خدا کی خدمت کے لیے وقف کر دی، آپ حضرت مولانا شاہ عبدالقادر رائے پوری رحمۃ اللہ علیہ کے خلیفہ مجاز تھے اور ان سے آپ کو روحانی نسبت حاصل تھی، جو آپ کے مقام و مرتبے کا آئینہ دار ہے، آپ کی ذات میں شریعت و طریقت، علم و عرفان اور زہد و تقویٰ کا ایسا حسین امتزاج تھا کہ لوگ آپ کی مجلس میں بیٹھ کر روحانی سکون پاتے تھے اور آپ کی صحبت کو اپنی زندگی کا بہترین سرمایہ سمجھتے تھے۔حضرت شاہ حافظ عبدالستار نانکوی رحمۃ اللہ علیہ مستجاب الدعوات تھے، ان کی ہر دعا بارگاہِ الٰہی میں قبولیت کا درجہ رکھتی تھی، ان کے کشف و کرامات بہت مشہور تھے اور ان کی دعاؤں کی برکت سے اللہ تعالیٰ نے اس خطے میں بے شمار گمشدہ روحوں کو گمراہی کے اندھیروں سے نکال کر ہدایت کا نور عطا فرمایا، ان کے مریدین، معتقدین اور محبین کی تعداد ناقابلِ شمار ہے، جو آج بھی ان سے عقیدت و محبت کا اظہار کرتے ہیں اور ان کے فیض سے مستفید ہوتے ہیں، لوگ دور دور سے آپ کی خدمت میں حاضر ہوتے تھے، آپ کے پاس ہمیشہ لوگوں کا تانتا بنا رہتا تھا اور آپ ہر آنے والے کو اپنی شفقت و محبت سے نوازتے تھے، آپ کی زندگی کا سب سے بڑا کارنامہ جامعہ ستاریہ فیض الرحیم کی بنیاد رکھنا ہے، جو آج برصغیر کے قدیم، معتبر اور ممتاز دینی، علمی، تربیتی اور روحانی اداروں میں شمار ہوتا ہے، اس عظیم ادارے کی بنیاد ۱۵ شوال ۱۳۵۲ھ مطابق ۱۲ فروری ۱۹۳۳ء کو رکھی گئی اور اس قیام کی سعادت آپ کی انتھک جدوجہد، اخلاص اور دینی بصیرت سے حاصل ہوئی، آپ نے اپنی پوری زندگی اس عظیم مشن کے لیے وقف کر دی اور آج جامعہ ستاریہ آپ کی فکری و روحانی وراثت کا زندہ جاویداں ثبوت ہے۔جامعہ ستاریہ کی تعمیر میں تین عبقری ہستیوں کا فیضِ دست رہا، بیادگار قطب عالم حضرت مولانا شاہ عبدالرحیم صاحب رائے پوریؒ، محرکِ بنا قطب عالم حضرت مولانا شاہ عبدالقادر صاحب رائے پوریؒ، اور بانی شیخ طریقت حضرت شاہ حافظ عبدالستار صاحب نانکویؒ، ان تینوں ہستیوں کی مشترکہ کوششوں سے یہ ادارہ وجود میں آیا، لیکن اس کی عملی تشکیل اور تعمیر کا سہرا حضرت شاہ حافظ عبدالستار نانکوی کے سر ہے، جنہوں نے اپنی عملی زندگی، اپنے اخلاص اور اپنی محنت سے اس ادارے کو جڑ سے ایک شاخِ بامراد تک پہنچایا، آج یہ ادارہ ایک مکمل دینی ریاست کا منظر پیش کرتا ہے، جہاں دو ہزار سے زائد طلبہ علومِ دینیہ و عصریہ کی تعلیم حاصل کر رہے ہیں، پندرہ شعبہ جات علمی و روحانی زندگی کے ہر پہلو کا احاطہ کیے ہوئے ہیں، اور ہزاروں فارغین ملک و بیرونِ ملک دینِ اسلام کی خدمت میں مصروف ہیں، مفکرِ اسلام حضرت مولانا علی میاں ندویؒ نے خود جامعہ کا دیدار کیا اور اپنے قلم سے اس کی تعریف لکھی، اور اساطینِ علم و فضل نے اس ادارے کو اپنی نگاہِ فیض سے نوازا، یہ سب آپ کی ہی برکات کا نتیجہ ہے۔حضرت شاہ حافظ عبدالستار نانکوی کی شخصیت ایک جامع شخصیت تھی، آپ عالم بھی تھے اور زاہد بھی، آپ صوفی بھی تھے اور قطبِ وقت بھی، آپ کی زندگی اتباعِ قرآن و سنت، عقائدِ اہلِ سنت والجماعت، شریعتِ مطہرہ کی پابندی اور بدعات و خرافات کی تردید پر قائم تھی، آپ نے اپنے مریدین اور شاگردوں کو اعتدال، اخلاص، للّٰہیت اور حسنِ معاشرت کا درس دیا اور انہیں دینِ اسلام کی صحیح نمائندگی کرنے کے قابل بنایا، آپ کی دعاؤں کا سایہ آج بھی جامعہ ستاریہ پر موجود ہے اور اسی برکت کی بدولت یہ ادارہ ہر دور میں اپنے مشن کو کامیابی کے ساتھ انجام دیتا رہا ہے، آج جامعہ کی انتظامی ذمہ داری حضرت مولانا عتیق الرحمن نانکوی دامت برکاتہم کے سپرد ہے، جو آپ کی ہی اولاد اور آپ کے مشن کے امین ہیں، اور ان کی نگرانی میں جامعہ اپنے علمی، روحانی، تربیتی اور اصلاحی سفر کو کامیابی کے ساتھ جاری رکھے ہوئے ہے۔حضرت شاہ حافظ عبدالستار نانکوی رحمۃ اللہ علیہ کی زندگی ایک مومن، ایک عالم، ایک صوفی اور ایک مصلح کی مکمل تصویر ہے، جنہوں نے اپنی ذات کو خلقِ خدا کی خدمت، دینِ اسلام کی اشاعت اور امتِ مسلمہ کی راہنمائی کے لیے وقف کر دیا، ان کی یادگار جامعہ ستاریہ فیض الرحیم آج بھی علم و ہدایت کا مینار ہے اور ان کی روحانی فیض کا سلسلہ قیامت تک جاری رہے گا، اللہ تعالیٰ ان کی قبر کو نور سے منور فرمائے، ان کے درجات بلند فرمائے، اور ان کی اولاد اور مریدین کو ان کے مشن پر استقامت عطا فرمائے، آمین ثم آمین۔

Scroll to Top