جامعہ ستاریہ فیض الرحیم برصغیر کی علمی و روحانی روایت کے دامن میں ایک ایسی تابناک درسگاہ ہے جو گزشتہ قریب ایک صدی سے علم و عمل، شریعت و طریقت اور تعلیم و تربیت کے حسین امتزاج سے امتِ مسلمہ کی راہنمائی کا فریضہ انجام دے رہی ہے، یہ ہے جامعہ ستاریہ فیض الرحیم، جس کی بنیاد ۱۵ شوال ۱۳۵۲ھ مطابق ۱۲ فروری ۱۹۳۳ء کو رکھی گئی، اور اس عظیم الشان ادارے کی تعمیر میں تین عبقری ہستیوں کا فیضِ دست رہا، بیادگار قطب عالم حضرت مولانا شاہ عبدالرحیم صاحب رائے پوریؒ، محرکِ بنا قطب عالم حضرت مولانا شاہ عبدالقادر صاحب رائے پوریؒ، اور بانی شیخ طریقت حضرت شاہ حافظ عبدالستار صاحب نانکویؒ، جو حضرت اقدس شاہ مولانا عبدالقادر صاحب رائے پوری کے خلیفہ مجاز تھے، حضرت شاہ حافظ عبدالستار نانکوی ایک خدا ترس بزرگ، صوفی زاہد، عالم ربانی، قطب وقت اور اپنے عہد کی مسلمہ شخصیت تھے، وہ مستجاب الدعوات تھے اور ان کی ہر دعا بارگاہِ الٰہی میں قبولیت کا درجہ رکھتی تھی، ان کے کشف و کرامات اور ان کی دعاؤں کی برکت سے اللہ تعالیٰ نے بے شمار گمشدہ روحوں کو ہدایت کا نور عطا کیا اور ان کے مریدین و معتقدین کی تعداد اس خطے میں ناقابلِ شمار ہے، لوگ ان کی مجلس میں بیٹھ کر روحانی سکون پاتے تھے اور ان کی صحبت کو اپنی زندگی کا بہترین سرمایہ سمجھتے تھے، آج جامعہ ستاریہ انہی کی فکری و روحانی وراثت کا زندہ جاویداں ثبوت ہے، جس کی سرپرستی مجلس شوریٰ جامعہ ستاریہ فیض الرحیم تعلیمی سوسائٹی کے سپرد ہے، اور اس کی نگرانی کے لیے اساطینِ علم و فضل نے سرپرستی فرمائی، جن میں حضرت مولانا مفتی حبیب الرحمن صاحب مفتی اعظم دارالعلوم دیوبند، حضرت مولانا سید محمد عاقل صاحب شیخ الحدیث جامعہ مظاہر علوم سہارنپور، پیر جی حضرت حافظ حسین احمد صاحب بوڑیوی رکن مسلم پرسنل لاء بورڈ، اور عالی مرتبت حضرت الحاج قاری محمد عارف صاحب قاسمی شامل ہیں، یہ وہ ہستیاں ہیں جن کی نگاہِ فیض اور رہنمائی میں جامعہ اپنے علمی و روحانی سفر کو جاری رکھے ہوئے ہے۔جامعہ ستاریہ اپنی وسعت اور خدمات کے اعتبار سے ایک مکمل دینی ریاست کا منظر پیش کرتا ہے، جہاں امدادی طلبہ کی تعداد ۴۳۵ ہے، اساتذہ کی تعداد ۲۲ ہے، دیگر ملازمین ۱۲ ہیں، ایم آئی ایف انٹر کالج میں طلبہ و طالبات کی تعداد ۱۶۳۰ ہے، اساتذہ ۳۱ ہیں، دیگر ملازمین ۶ ہیں، اور دونوں اداروں کے کل طلبہ و طالبات ۲۰۶۵ ہیں، جو اس عظیم علمی مرکز کی وسعت اور تاثیر کا بین ثبوت ہیں، اس کے علاوہ ۱۱۶ تعمیرات، کمرے اور کلاس روم اس ادارے کی عظمت کی گواہی دیتے ہیں، اس عظیم ادارے کے پندرہ شعبہ جات ہیں جن میں شعبہ تحفیظ القرآن جس میں نو درجات ہیں، شعبۂ تجوید، شعبۂ عربی و فارسی تاسالِ ہفتم، شعبۂ علومِ عصریہ مع دینیات، شعبۂ نشر و اشاعت، شعبۂ تنظیم و ترقی، شعبۂ مطبخ، شعبۂ محاسبی، انجمن اصلاح البیان برائے خطابت و صحافت، شعبۂ صنعت وحرفت الیکٹریشن و کمپیوٹر، کتب خانہ جس میں تقریباً دس ہزار درسی و غیر درسی کتابیں موجود ہیں، ستاریہ شفاخانہ، شعبۂ دعوت و تبلیغ، ایم آئی ایف انٹر کالج جو عصری تقاضوں کے پیش نظر جامعہ کی نگرانی میں علومِ عصریہ درجہ اول تا بارہ انٹرمیڈیٹ سرکاری نصاب کے ساتھ دینیات کی تعلیم کا معقول نظم فراہم کرتا ہے، اور خانقاہ قادریہ ستاریہ جس کے تحت اصلاح و تربیت کی خانقاہی مجالس منعقد ہوتی ہیں اور عوام و خواص ان سے فیض یاب ہوتے ہیں، سال رواں میں عربی و فارسی سے فارغین کی تعداد ۷۸، حفظ قرآن سے فارغین کی تعداد ۲۸، اور ایم آئی ایف ہائی اسکول و انٹر سے فارغین کی تعداد ۳۹۴ ہے، جو اس ادارے کی علمی پیداوار کا روشن ثبوت ہے۔جامعہ ستاریہ کی عظمت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ مفکرِ اسلام حضرت مولانا علی میاں ندویؒ نے خود اس کا دیدار کیا اور اپنے قلم سے اس کی تعریف لکھی، انہوں نے فرمایا کہ جامعہ ستاریہ فیض الرحیم نانکہ گند یوڑہ میں حاضری کا شرف حاصل ہوا جس کی نسبت ہمارے شیخ الشیخ عارف باللہ حضرت شاہ عبدالرحیم صاحب سے ہے، یہاں کچھ طلبہ نے میزان الصرف کا پہلا سبق پڑھا اور جامعہ میں عربی تعلیم کا آغاز ہوا، اور افسوس کیا کہ مصروفیت و ضعف کی وجہ سے یہاں زیادہ وقت نہیں گزارا جا سکا، صرف حاضری کا شرف حاصل ہو گیا جو موجبِ عزت و مسرت ہے، اللہ مدرسہ کو ترقی عنایت فرمائے، آمین، اس کے علاوہ جامعہ میں دارالحدیث کے سنگِ بنیاد کے موقع پر تشریف لانے والے اکابر حضرات میں حضرت مولانا مفتی ابوالقاسم نعمانی مہتمم دارالعلوم دیوبند، حضرت مولانا سید محمد عاقل صاحب شیخ الحدیث جامعہ مظاہر علوم سہارنپور، حضرت مولانا محمد سعیدی صاحب ناظم جامعہ مظاہر علوم وقف سہارنپور نے بطور معاینہ اپنے تاثرات قلمبند کیے، اور تعلیمی بیداری کانفرنس کے موقع پر حضرت مولانا خلیل الرحمن سجاد نعمانی صاحب نے اپنے معاینے اور تاثرات کا اظہار فرمایا، اس کے علاوہ جن اکابرِ دین نے جامعہ میں تشریف لا کر اسے اپنی نگاہِ فیض سے نوازا ان میں قطب عالم حضرت شاہ مولانا عبدالقادر صاحب رائے پوریؒ، شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمد مدنیؒ، حضرت مولانا محمد زکریا صاحبؒ سابق شیخ الحدیث جامعہ مظاہر علوم سہارنپور، مفکر اسلام حضرت مولانا سید ابوالحسن علی میاں ندویؒ، حکیم الاسلام حضرت مولانا قاری محمد طیب صاحبؒ، حضرت مولانا قاری سید صدیق احمد باندوی، حضرت مولانا مفتی محمود الحسن گنگوہی، حضرت مولانا مفتی مظفر حسین، حضرت مولانا سید اسعد مدنی، حضرت مولانا سید ارشد مدنی، حضرت مولانا مفتی عبدالقیوم، خطیب الاسلام حضرت مولانا محمد سالم، حضرت مولانا قاری محمد عثمان منصورپوری، حضرت مولانا سید محمد سلمان، حضرت مولانا شوکت علی بستوی، اور حضرت مولانا فضل الرحیم مجددی جیسی عظیم ہستیاں شامل ہیں، جن کی آمد اس ادارے کی علمی و روحانی اہمیت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ایہ عظیم ادارہ ایک ایسی علمی و روحانی سلطنت ہے جس کی بنیاد حضرت شاہ حافظ عبدالستار نانکوی جیسی عبقری ہستی نے رکھی، جس کی سرپرستی میں اساطینِ علم و فضل شامل ہیں، جس کے شعبہ جات علمی و روحانی زندگی کے ہر پہلو کا احاطہ کیے ہوئے ہیں، جس کی علمی پیداوار قابلِ رشک ہے، جس کے اکابرِ دین نے اپنی نگاہِ فیض سے نوازا، جس کے منتظمین بااخلاص ہیں، اور جس کی مالی حالت قابلِ تحسین ہے، جامعہ ستاریہ فیض الرحیم آج بھی اپنے بانی کے مشن کو اسی اخلاص، استقامت اور عقیدت کے ساتھ آگے بڑھا رہا ہے، اور حضرت مولانا عتیق الرحمن نانکوی کی نگرانی میں اپنے علمی، روحانی، تربیتی اور اصلاحی سفر کو کامیابی کے ساتھ جاری رکھے ہوئے ہے، یہ ادارہ محض ایک تعلیمی مرکز نہیں بلکہ فکر و عمل، علم و عرفان اور شریعت و طریقت کا ایک مینارۂ نور ہے، جس کی ہر دیوار اس عظیم بانی کی دعاؤں کی خوشبو لیے ہوئے ہے اور ہر طالب علم اس روحانی فیض کا امین ہے، یقیناً یہ ادارہ آئندہ بھی اسی طرح علم و ہدایت کا سلسلہ جاری رکھے گا اور امتِ مسلمہ کی فکری و اخلاقی راہنمائی کا ذریعہ بنتا رہے گا، انشاء اللہ۔
